کتی جا کتی جا
میرے دل کو تو چکنا چور
کتی جا کتی جا
ظاہر جو تیرا یہ غرور

مجھے تو یہ بتاتی جا
اس زخم کا مرہم کیا
کیوں تھوڑی رسمِ وفا
امتحان بڑا ہے نا

کیسے یہ ہوا خسارہ
نہ میں سنبھلا دوبارہ
آئے نہ قرار دل کو
ہے بےبسی یہاں

ہاں میں نے تو تھا نبھایا
ساتھ بڑا
تو نہیں تو خاک ڈھونڈوں
منزلیں یہاں

تو روٹھ جا، قبول نہ ہمین
تو دور جا، تو خاق ہم جیین
قربت جو تھی، جھوٹ سے بھری
روح میری تم، دیکے تو جاتیں
لو کرتے ہیں تم سے دوری
کہانی تیری میری ہے ادھوری

ہے دعا سدا تم رہو جہاں بھی جانا
تو جیتا میں ہارا، رہ ہی گیا کہنے کو کیا

ہاں میں نے تو تھا نبھایا ساتھ بڑا
تو نہیں تو خاک ڈھونڈوں منزلیں یہاں

کیسے یہ ہوا خسارہ
نہ میں سنبھلا دوبارہ
آئے نہ قرار دل کو
ہے بےبسی یہاں